مجنوں کی محنتیں سب میں خاک میں ملائوں

دیوان اول غزل 286
وحشت میں ہوں بلا گر وادی پر اپنی آئوں
مجنوں کی محنتیں سب میں خاک میں ملائوں
ہنس کر کبھو بلایا تو برسوں تک رلایا
اس کی ستم ظریفی کس کے تئیں دکھائوں
فریادی ہوں تو ٹپکے لوہو مری زباں سے
نالے کو بلبلوں کے خاطر میں بھی نہ لائوں
پوچھو نہ دل کے غم کو ایسا نہ ہووے یاراں
مانند روضہ خواں کے مجلس کے تیں رلائوں
لگتی ہے آگ تن میں دیکھے سے داغ اس کے
اس دل جلے ہوئے پہ کتنا ہی جی جلائوں
اک دم تو چونک بھی پڑ شور و فغاں سے میرے
اے بخت خفتہ کب تک تیرے تئیں جگائوں
از خویش رفتہ ہر دم فکر وصال میں ہوں
کتنا میں کھویا جائوں یارب کہ تجھ کو پائوں
عریاں تنی کی شوخی وحشت میں کیا بلا تھی
تہ گرد کی نہ بیٹھی تا تن کے تیں چھپائوں
اگلے خطوں نے میرے مطلق اثر نہ بخشا
قاصد کے بدلے اب کے جادو مگر چلائوں
دل تفتگی نے مارا مجھ کو کہاں مژہ دے
اک قطرہ آب تا میں اس آگ کو بجھائوں
آسودگی تو معلوم اے میر جیتے جی یاں
آرام تب ہی پائوں جب جی سے ہاتھ اٹھائوں
میر تقی میر