مجنوں بھی اس کی موج میں مدت بہا پھرا

دیوان اول غزل 135
صحرا میں سیل اشک مرا جابجا پھرا
مجنوں بھی اس کی موج میں مدت بہا پھرا
طالع جو خوب تھے نہ ہوا جاہ کچھ نصیب
سر پر مرے کڑوڑ برس تک ہما پھرا
آنکھیں برنگ نقش قدم ہو گئیں سفید
نامے کے انتظار میں قاصد بھلا پھرا
ٹک بھی نہ مڑ کے میری طرف تونے کی نگاہ
اک عمر تیرے پیچھے میں ظالم لگا پھرا
دیر و حرم میں کیونکے قدم رکھ سکے گا میر
ایدھر تو اس سے بت پھرے اودھر خدا پھرا
میر تقی میر