مانند گل شگفتہ جبیں یاں معاش کر

دیوان چہارم غزل 1385
مت اس چمن میں غنچہ روش بود و باش کر
مانند گل شگفتہ جبیں یاں معاش کر
دل رکھ قوی فلک کی زبردستی پر نہ جا
گر کشتی لگ گئی ہے تو تو بھی تلاش کر
ہے کیا تو جیسے غنچہ بندھی مٹھی جا چلا
مت گل کے رنگ منھ کو کھلا راز فاش کر
یوں ہی ہے سینہ کوبی اگر چاہے دل کی داد
پیشانی کو سلیقے سے دکھلا خراش کر
پھرتا ہے کیا تو میر گلستاں میں غم زدہ
کچھ دل خراش لکھ بھی قلم اک تراش کر
میر تقی میر