مئے گلگوں کا شیشہ ہچکیاں لے لے کے رووے گا

دیوان اول غزل 129
مغاں مجھ مست بن پھر خندئہ ساغر نہ ہووے گا
مئے گلگوں کا شیشہ ہچکیاں لے لے کے رووے گا
کیا ہے خوں مرا پامال یہ سرخی نہ چھوٹے گی
اگر قاتل تو اپنے پائوں سو پانی سے دھووے گا
کوئی رہتا ہے جیتے جی ترے کوچے کے آنے سے
تبھی آسودہ ہو گا میر سا جب جی کو کھووے گا
میر تقی میر