لکھتا ہوں تو پھرے ہے کتابت بہی بہی

دیوان پنجم غزل 1732
کیا خط لکھوں میں رونے سے فرصت نہیں رہی
لکھتا ہوں تو پھرے ہے کتابت بہی بہی
میدان غم میں قتل ہوئی آرزوے وصل
تھی اپنے خاندان تمنا میں اک یہی
اپنا لکھا ہے یاد مجھے میری بات بھول
قاصد نے جا کے یار سے کچھ اور ہی کہی
شب شور کرنے میں جو سماجت کی تنگ ہو
کہنے لگا کہ مارو اسے یہ تو ہے وہی
مت بہ نمک حرام تو داغوں سے ساز کر
اے زخم کہنہ میر کی خاطر ہی یوں سہی
میر تقی میر