لڑنے لگے ہیں ہجر میں اس کے ہوا سے ہم

دیوان اول غزل 284
کرتے ہیں گفتگو سحر اٹھ کر صبا سے ہم
لڑنے لگے ہیں ہجر میں اس کے ہوا سے ہم
ہوتا نہ دل کا تا یہ سرانجام عشق میں
لگتے ہی جی کے مر گئے ہوتے بلا سے ہم
چھوٹا نہ اس کا دیکھنا ہم سے کسو طرح
پایان کار مارے گئے اس ادا سے ہم
داغوں ہی سے بھری رہی چھاتی تمام عمر
یہ پھول گل چنا کیے باغ وفا سے ہم
غافل نہ اپنی دیدہ درائی سے ہم کو جان
سب دیکھتے ہیں پر نہیں کہتے حیا سے ہم
دو چار دن تو اور بھی آ تو کراہتہً
اب ہوچکے ہیں روز کی تیری جفا سے ہم
آئینے کی مثال پس از صد شکست میر
کھینچا بغل میں یار کو دست دعا سے ہم
میر تقی میر