لوٹا مارا ہے حسن والوں کا

دیوان سوم غزل 1097
دل عجب شہر تھا خیالوں کا
لوٹا مارا ہے حسن والوں کا
جی کو جنجال دل کو ہے الجھائو
یار کے حلقہ حلقہ بالوں کا
موے دلبر سے مشک بو ہے نسیم
حال خوش اس کے خستہ حالوں کا
نہ کہا کچھ نہ آ پھرا نہ ملا
کیا جواب ان مرے سوالوں کا
دم نہ لے اس کی زلفوں کا مارا
میر کاٹا جیے نہ کالوں کا
میر تقی میر