قیامت کو مگر عرصے میں آویں

دیوان اول غزل 327
مرے آگے نہ شاعر نام پاویں
قیامت کو مگر عرصے میں آویں
پری سمجھے تجھے وہم و گماں سے
کہاں تک اور ہم اب دل چلاویں
ترے عاشق ترے رسوا کہائے
ترے ہوکر کہہ اب کس کے کہاویں
مزاج اپنا غیور ازبس پڑا ہے
ترے غم میں کسے خاطر میں لاویں
پھرے ہے شیخ مجلس ہی میں رقصاں
ادھر آنکلے تو ہم بھی نچاویں
نظر اے ابر اب مت آ مبادا
کہیں میری بھی آنکھیں ڈبڈباویں
قدم بوسی تلک مختار ہیں غیر
زیادہ لگ چلیں تو سر میں کھاویں
نہ آیا وہ تو کیا ہم نیم جاں بھی
بغیر اس کے ملے دنیا سے جاویں
چلی ہے تو تو اے جان الم ناک
ٹک اک رہ جا کہ ہم رخصت ہو آویں
چلا مقدور سے غم میر آگے
زمیں پھٹ جائے یارب ہم سماویں
میر تقی میر