قدر ہماری کچھ جانوگے دل کو کہیں جو لگائوگے

دیوان چہارم غزل 1510
عشق میں کھوئے جائوگے تو بات کی تہ بھی پائوگے
قدر ہماری کچھ جانوگے دل کو کہیں جو لگائوگے
صبر کہاں بیتابی دل سے چین کہاں بے خوابی سے
سو سو بار گلی میں تکتے گھر سے باہر آئوگے
شوق کمال کو پہنچا تو ہیں خط و کتابت حرف و سخن
قاصد کے محتاج نہ ہو گے آپھی دوڑے جائوگے
صنعت گریاں صاحب بندہ دل کے لگے کب پیش گئیں
ایک نہیں وہ سننے کا تم باتیں بہت بنائوگے
چاہ کیے درویش ہوئے تو آب و خورش کی فکر نہیں
لوہو پیوگے اپنا ہر دم غم غصہ ہی کھائوگے
رنگ محبت کے ہیں کتنے کوئی تمھیں خوش آوے گا
خون کروگے یا دل کو یا داغ جگر پہ جلائوگے
رہتے ہیں مبہوت الفت ہیں گم گشتہ کلفت میں
بھولے بھولے آپھی پھروگے کس کو راہ بتائوگے
اشک تو پانی سے ہیں لیکن جلتے جلتے آویں گے
دل کے لگے حیران ہوں صاحب کس ڈھب مل کے بجھائوگے
چاہت میر سبھی کرتے ہیں رنج و تعب میں رہتے ہیں
تم جو ابھی بیتاب ہو ایسے جی سے ہاتھ اٹھائوگے
میر تقی میر