قدرت سے اس کی لب پر نام آوے ہے خدا کا

دیوان چہارم غزل 1313
واجب کا ہو نہ ممکن مصدر صفت ثنا کا
قدرت سے اس کی لب پر نام آوے ہے خدا کا
سب روم روم تن میں زردی غم بھری ہے
خاک جسد ہے میری کس کان زر کا خاکا
بند اس قبا کا کھولیں کیا ناخن فقیراں
وابستہ ہے یہ عقدہ شاید کسو دعا کا
ناسازی طبیعت کیا ہے جواں ہوئے پر
اوباش وہ ستمگر لڑکا ہی تھا لڑاکا
گل پھول فصل گل میں صد رنگ ہیں شگفتہ
میں دل زدہ ہوں اب کے رنگینی ہوا کا
عاشق کی چشم تر میں گو دبتے آویں لیکن
پائوں کا دلبروں کے چھپتا نہیں چھپاکا
زوریں کش اس جواں کی کس سے کماں کھنچے ہے
تھا یکہ و جنازہ میر ان نے جس کو تاکا
میر تقی میر