فریاد کریں کس سے کہاں جاکے پکاریں

دیوان اول غزل 350
کر نالہ کشی کب تئیں اوقات گذاریں
فریاد کریں کس سے کہاں جاکے پکاریں
ہر دم کا بگڑنا تو کچھ اب چھوٹا ہے ان سے
شاید کسی ناکام کا بھی کام سنواریں
دل میں جو کبھو جوش غم اٹھتا ہے تو تا دیر
آنکھوں سے چلی جاتی ہیں دریا کی سی دھاریں
کیا ظلم ہے اس خونی عالم کی گلی میں
جب ہم گئے دوچار نئی دیکھیں مزاریں
جس جا کہ خس و خار کے اب ڈھیر لگے ہیں
یاں ہم نے انھیں آنکھوں سے دیکھیں ہیں بہاریں
کیونکر کے رہے شرم مری شہر میں جب آہ
ناموس کہاں اتریں جو دریا پہ ازاریں
وے ہونٹ کہ ہے شور مسیحائی کا جن کی
دم لیویں نہ دوچار کو تا جی سے نہ ماریں
منظور ہے کب سے سرشوریدہ کا دینا
چڑھ جائے نظر کوئی تو یہ بوجھ اتاریں
بالیں پہ سر اک عمر سے ہے دست طلب کا
جو ہے سو گدا کس کنے جا ہاتھ پساریں
ان لوگوں کے تو گرد نہ پھر سب ہیں لباسی
سوگز بھی جو یہ پھاڑیں تو اک گز بھی نہ واریں
ناچار ہو رخصت جو منگا بھیجی تو بولا
میں کیا کروں جو میر جی جاتے ہیں سدھاریں
میر تقی میر