فراق ایسا نہیں ہوتا کہ پھر آتے نہیں جاکر

دیوان چہارم غزل 1391
جدائی تا جدائی فرق ہے ملتے بھی ہیں آکر
فراق ایسا نہیں ہوتا کہ پھر آتے نہیں جاکر
اگرچہ چپ لگی ہے عاشقی کی مجھ کو حیرت سے
کبھو احوال پرسی تو کرو دل ہاتھ میں لاکر
جو جانوں تجھ میں بلبل تہ نہیں تو کیوں زباں دیتا
زباں کر بند سارے باغ میں مجھ کو نہ رسوا کر
فلک نے باغ سے جوں غنچۂ نرگس نکالا ہے
کہیں کیا جانوں کیا دیکھوں گا چشم بستہ کو وا کر
سبد پھولوں بھرے بازار میں آئے ہیں موسم میں
نکل کر گوشۂ مسجد سے تو بھی میر سودا کر
میر تقی میر