فاقہ مستی مدام کرتا ہوں

دیوان پنجم غزل 1702
مے کشی صبح و شام کرتا ہوں
فاقہ مستی مدام کرتا ہوں
کوئی ناکام یوں رہے کب تک
میں بھی اب ایک کام کرتا ہوں
یا تو لیتا ہوں داد دل یا اب
کام اپنا تمام کرتا ہوں
میر تقی میر