غیرت سے رہ گئے ہم یک سو کباب ہوکر

دیوان اول غزل 219
غیروں سے مل چلے تم مست شراب ہوکر
غیرت سے رہ گئے ہم یک سو کباب ہوکر
اس روے آتشیں سے برقع سرک گیا تھا
گل بہ گیا چمن میں خجلت سے آب ہوکر
کل رات مند گئی تھیں بہتوں کی آنکھیں غش سے
دیکھا کیا نہ کر تو سرمست خواب ہوکر
پردہ رہے گا کیونکر خورشید خاوری کا
نکلے ہے صبح وہ بھی اب بے نقاب ہوکر
یک قطرہ آب میں نے اس دور میں پیا ہے
نکلا ہے چشم تر سے وہ خون ناب ہوکر
آ بیٹھتا تھا صوفی ہر صبح میکدے میں
شکر خدا کہ نکلا واں سے خراب ہوکر
شرم و حیا کہاں تک ہیں میر کوئی دن کے
اب تو ملا کرو تم ٹک بے حجاب ہوکر
میر تقی میر