غم سے پانی ہوکے کب کا بہ گیا میں ہوں کہاں

دیوان سوم غزل 1176
رو چکا خون جگر سب اب جگر میں خوں کہاں
غم سے پانی ہوکے کب کا بہ گیا میں ہوں کہاں
دست و دامن جیب و آغوش اپنے اس لائق نہ تھے
پھول میں اس باغ خوبی سے جو لوں تو لوں کہاں
عاشق و معشوق یاں آخر فسانے ہو گئے
جاے گریہ ہے جہاں لیلیٰ کہاں مجنوں کہاں
آگ برسی تیرہ عالم ہو گیا جادو سے پر
اس کی چشم پرفسوں کے سامنے افسوں کہاں
سیر کی رنگیں بیاض باغ کی ہم نے بہت
سرو کا مصرع کہاں وہ قامت موزوں کہاں
کوچہ ہر یک جاے دلکش عالم خاکی میں ہے
پر کہیں لگتا نہیں جی ہائے میں دل دوں کہاں
ایک دم سے قیس کے جنگل بھرا رہتا تھا کیا
اب گئے پر اس کے ویسی رونق ہاموں کہاں
ناصح مشفق تو کہتا تھا کہ اس سے مت ملے
پر سمجھتا ہے ہمارا یہ دل محزوں کہاں
بائو کے گھوڑے پہ تھے اس باغ کے ساکن سوار
اب کہاں فرہاد و شیریں خسرو گلگوں کہاں
کھا گیا اندوہ مجھ کو دوستان رفتہ کا
ڈھونڈتا ہے جی بہت پر اب انھیں پائوں کہاں
تھا وہ فتنہ ملنے کی گوں کب کسی درویش کے
کیا کہیں ہم میر صاحب سے ہوئے مفتوں کہاں
میر تقی میر