عشق کیا ناکام رہا آخر کو کام تمام کیا

دیوان پنجم غزل 1542
کیا پوچھو ہو کیا کہیے میاں دل نے بھی کیا کام کیا
عشق کیا ناکام رہا آخر کو کام تمام کیا
عجز کیا سو اس مفسد نے قدر ہماری یہ کچھ کی
تیوری چڑھائی غصہ کیا جب ہم نے جھک کے سلام کیا
کہنے کی بھی لکھنے کی بھی ہم تو قسم کھا بیٹھے تھے
آخر دل کی بیتابی سے خط بھیجا پیغام کیا
عشق کی تہمت جب نہ ہوئی تھی کاہے کو شہرت ایسی تھی
شہر میں اب رسوا ہیں یعنی بدنامی سے کام کیا
ریگستاں میں جاکے رہیں یا سنگستاں میں ہم جوگی
رات ہوئی جس جاگہ ہم کو ہم نے وہیں بسرام کیا
خط و کتابت لکھنا اس کو ترک کیا تھا اس ہی لیے
حرف و سخن سے ٹپکا لوہو اب جو کچھ ارقام کیا
تلخ اس کا تو شہد و شکر ہے ذوق میں ہم ناکاموں کے
لوگوں میں لیکن پوچ کہا یہ لطف بے ہنگام کیا
جیسے کوئی جہاں سے جاوے رخصت اس حسرت سے ہوئے
اس کوچے سے نکل کر ہم نے روبہ قفا ہر گام کیا
میر جو ان نے منھ کو ادھر کر ہم سے کوئی بات کہی
لطف کیا احسان کیا انعام کیا اکرام کیا
میر تقی میر