عشق نے کیا ہمیں دکھائے داغ

دیوان چہارم غزل 1413
دل جگر دونوں پر جلائے داغ
عشق نے کیا ہمیں دکھائے داغ
دل جلے ہم نہیں رہے بیکار
زخم کاری اٹھائے کھائے داغ
جل گئے دیکھ گرمی اغیار
آئے اس کوچے سے تو آئے داغ
احتیاطاً صراحی مے سے
ہم نے سجادے کے دھلائے داغ
دیکھے دامن کے نیچے کے سے دیے
میر نے گر تلے چھپائے داغ
میر تقی میر