عشق میں کس حسن سے فرہاد ظالم مر گیا

دیوان چہارم غزل 1330
صورت شیریں کے آگے کام اپنا کر گیا
عشق میں کس حسن سے فرہاد ظالم مر گیا
خانہ آبادی ہمیں بھی دل کی یوں ہے آرزو
جیسے جلوے سے ترے گھر آرسی کا بھر گیا
میر سختی کش تھا غافل پر خدا نے خیر کی
حادثے کا کیسا اس کے سر پہ سے پتھر گیا
میر تقی میر