عزلتی شہر کے بازار میں آ بیٹھے ہیں

دیوان پنجم غزل 1698
حسن کیا جنس ہے جی اس پہ لگا بیٹھے ہیں
عزلتی شہر کے بازار میں آ بیٹھے ہیں
ہم وے ہر چند کہ ہم خانہ ہیں دونوں لیکن
روش عاشق و معشوق جدا بیٹھے ہیں
ان ستم کشتوں کو ہے عشق کہ اٹھ کر یک بار
تیغ خوں خوار تلے یار کی جا بیٹھے ہیں
کیونکے یاں اس کا خیال آوے کہ آگے ہی ہم
دل سا گھر آتشیں آہوں سے جلا بیٹھے ہیں
پیش رو دست دعا ہے وہی شے خواہش ہے
اور سب چیز سے ہم ہاتھ اٹھا بیٹھے ہیں
ساری رات آنکھوں کے آگے ہی مری رہتا ہے
گوکہ وے چاند سے مکھڑے کو چھپا بیٹھے ہیں
باغ میں آئے ہیں پر اس گل تر بن یک سو
غنچہ پیشانی و دل تنگ و خفا بیٹھے ہیں
کیا کہوں آئے کھڑے گھر سے تو اک شوخی سے
پائوں کے نیچے مرے ہاتھ دبا بیٹھے ہیں
قافلہ قافلہ جاتے ہیں چلے کیا کیا لوگ
میر غفلت زدہ حیران سے کیا بیٹھے ہیں
میر تقی میر