عرش پر برچھیاں چلاتی ہے

دیوان اول غزل 554
آہ جس وقت سر اٹھاتی ہے
عرش پر برچھیاں چلاتی ہے
ناز بردار لب ہے جاں جب سے
تیرے خط کی خبر کو پاتی ہے
اے شب ہجر راست کہہ تجھ کو
بات کچھ صبح کی بھی آتی ہے
چشم بد دور چشم تر اے میر
آنکھیں طوفان کو دکھاتی ہے
میر تقی میر