عجب مرحلہ ہم کو درپیش ہے

دیوان سوم غزل 1279
غم مرگ سے دل جگر ریش ہے
عجب مرحلہ ہم کو درپیش ہے
بلا ہے اسے شوق تیر و کماں
یہیں سے ہے پیدا ستم کیش ہے
دلا اس کے ظاہر پہ مت جائیو
وہ خوش رو تو ہے پر بد اندیش ہے
بہت خوب ہے لعل نوشین یار
ولیکن خط پشت لب نیش ہے
ہمیں کیا جو ہے میر بیہوش سا
خدا جانے یہ کیا ہی درویش ہے
میر تقی میر