عاشق کہیں شتاب تو ہووے خدا کرے

دیوان پنجم غزل 1739
بے اس کے تیرے حق میں کوئی کیا دعا کرے
عاشق کہیں شتاب تو ہووے خدا کرے
اے سردمہر کوئی مرے رہ تو گرم ناز
پرسش کسو کے حال کی تیری بلا کرے
دامن بہت وسیع ہے آنکھوں کا اے سحاب
لازم ہے تجھ کو ان ہی کا پانی بھرا کرے
آکر بکھیرے پھول مری مشت خاک پر
مرغ چمن اگر حق صحبت ادا کرے
پتھر کی چھاتی چاہیے ہے میر عشق میں
جی جانتا ہے اس کا جو کوئی وفا کرے
میر تقی میر