عاشق اس کی قامت کے بالا بالا مارے گئے

دیوان پنجم غزل 1755
اس تک کوشش سے بھی نہ پہنچے جان سے آخر سارے گئے
عاشق اس کی قامت کے بالا بالا مارے گئے
اس کے روے خوے کردہ پہ نقاب لیے وہ صورت ہے
جیسے یکایک سطح ہوا پر بدلی آئی تارے گئے
ایسے قماری سے دل کو لگاکر جیتے رہنا ہو نہ سکا
رفتۂ شاہدبازی اس کے جی بھی اپنا ہارے گئے
چارہ گر اس شہر کے ہوں تو فکر کریں آبادی کا
یارب بستے تھے جو یاں وے لوگ کہاں بیچارے گئے
مشکل میر نظر آتا تھا اٹھنا بار امانت کا
آئے ہم تو سہولت سے وہ بوجھ اٹھاکر بارے گئے
میر تقی میر