ظلم صریح عشق کی امداد سے ہوا

دیوان چہارم غزل 1345
نے ہم سے کچھ نہ اس ستم ایجاد سے ہوا
ظلم صریح عشق کی امداد سے ہوا
شیریں کا حسن ایسا تھا جو خستہ جان دیں
جو کچھ ہوا سو خواہش فرہاد سے ہوا
خوش زمزمہ طیور ہی ہوتے ہیں میر اسیر
ہم پر ستم یہ صبح کی فریاد سے ہوا
میر تقی میر