ظاہر تو پاس بیٹھے ہیں پر ہیں بہت پرے

دیوان دوم غزل 972
مت سہل سمجھو ایسے ہیں ہم کیا ورے دھرے
ظاہر تو پاس بیٹھے ہیں پر ہیں بہت پرے
سختی بہت ہے پاس و مراعات عشق میں
پتھر کے دل جگر ہوں تو کوئی وفا کرے
خالی کروں ہوں رو رو کے راتوں کو دل کے تیں
انصاف کر کہ یوں کوئی دن کب تلک بھرے
رندھنے نے جی کے خاک میں ہم کو ملا دیا
گویا کہ آسمان بہت آگیا ورے
داڑھی کو تیری دیکھ کے ہنستے ہیں لڑکے شیخ
اس ریش خند کو بھی سمجھ ٹک تو مسخرے
جل تھل فقط نہیں مرے رونے سے بھر گئے
جنگل پڑے تھے سوکھے سو وہ بھی ہوئے ہرے
جی کو بچا رکھیں گے تو جانیں گے عشق میں
ہر چند میر صاحب قبلہ ہیں منگرے
میر تقی میر