طوفان سا شہروں میں ہے اک شور دریا پر بھی ہے

دیوان سوم غزل 1263
آشوب چشم چشمہ زا اب کوہ و صحرا پر بھی ہے
طوفان سا شہروں میں ہے اک شور دریا پر بھی ہے
گو چشم بندی شیخ کی ہو آخرت کے واسطے
لیکن نظر اعمیٰ نمط پردے میں دنیا پر بھی ہے
نے دست مزد بندگی نے قدر سرافگندگی
جو مکرمت ہم پر ہوئی اب جلف و ادنیٰ پر بھی ہے
تنگ آن کر گم ہو گئے مقصود جو مقصود تھا
ہم خرج رہ کیونکر نہ ہوں پیدا ہی پیدا پر بھی ہے
ہیں خوبیاں ہی خوبیاں وحشی طبیعت میر میں
پر انس کم ہم سے دلیل اب کے یہ سودا پر بھی ہے
میر تقی میر