طرف گلزار کی آیا چلا میں

دیوان پنجم غزل 1687
غم ہجراں میں گھبرا کر اٹھا میں
طرف گلزار کی آیا چلا میں
شگفتہ خاطری اس بن کہاں تھی
چمن میں غنچہ پیشانی رہا میں
کسو سے دل نہیں ملتا ہے یارب
ہوا تھا کس گھڑی ان سے جدا میں
تعارف ہم صفیروں سے نہیں کچھ
ہوا ہوں ایک مدت میں رہا میں
کیا صبر آخر آزار دلی پر
بہت کرتا رہا دارو دوا میں
نہ عنقا کا کہیں نام و نشاں تھا
ہوا تھا شہرہ جب نام خدا میں
ہوا تھا میر مشکل عشق میں کام
کیا پتھر جگر تب کی دوا میں
میر تقی میر