طرحیں بدل گئیں پر ان نے ادھر نہ دیکھا

دیوان سوم غزل 1101
چاہت کے طرح کش ہو کچھ بھی اثر نہ دیکھا
طرحیں بدل گئیں پر ان نے ادھر نہ دیکھا
خالی بدن جیوں سے یاں ہو گئے ولیکن
اس شوخ نے ادھر کو بھر کر نظر نہ دیکھا
کس دن سرشک خونیں منھ پر نہ بہ کر آئے
کس شب پلک کے اوپر لخت جگر نہ دیکھا
یاں شہر شہر بستی اوجڑ ہی ہوتے پائی
اقلیم عاشقی میں بستا نگر نہ دیکھا
اب کیا کریں کہ آیا آنکھوں میں جی ہمارا
افسوس پہلے ہم نے ٹک سوچ کر نہ دیکھا
لاتے نہیں فرو سر ہرگز بتاں خدا سے
آنکھوں سے اپنی تم نے ان کا گہر نہ دیکھا
سوجھا نہ چاہ میں کچھ برباد کر چکے دل
میر اندھے ہو رہے تھے اپنا بھی گھر نہ دیکھا
میر تقی میر