طالعوں نے صبح کر دکھلائیاں

دیوان اول غزل 319
بارہا وعدوں کی راتیں آئیاں
طالعوں نے صبح کر دکھلائیاں
عشق میں ایذائیں سب سے پائیاں
رہ گئے آنسو تو آنکھیں آئیاں
ظل حق ہم کو بھی ووہیں چاہیے
جوں ہماری ہوتی ہیں پرچھائیاں
اس مژہ برہم زدہ نے بارہا
عاشقوں میں برچھیاں چلوائیاں
نونہال آگے ترے ہیں جیسی ہوں
ڈالیاں ٹوٹی ہوئیں مرجھائیاں
ایک بھی چشمک نہ اس مہ کی سی کی
آنکھیں تاروں نے بہت جھمکائیاں
ایک نے صورت نہ پکڑی پیش یار
دل میں شکلیں سینکڑوں ٹھہرائیاں
رویت اپنی اس گلی میں کم نہیں
ہر جگہ ہر بار ماریں کھائیاں
بوسہ لینے کا کیا جس دم سوال
ان نے باتیں ہی ہمیں بتلائیاں
روکشی کو اس کی منھ بھی چاہیے
ماہ کے چہرے پہ ہیں سب جھائیاں
مضطرب ہوکر کیا سب میں سبک
دل نے آخر خفتیں دلوائیاں
چل چمن میں یہ بھی ہے کوئی روش
ناز تاکے چند بے پروائیاں
شوق قامت میں ترے اے نونہال
گل کی شاخیں لیتی ہیں انگڑائیاں
پاس مجھ کو بھی نہیں ہے میر اب
دور پہنچی ہیں مری رسوائیاں
میر تقی میر