طاق بلند پر اسے سب نے اٹھا رکھا

دیوان دوم غزل 754
حلقہ ہوئی وہ زلف کماں کو چھپا رکھا
طاق بلند پر اسے سب نے اٹھا رکھا
اس مہ سے دل کی لاگ وہی متصل رہی
گو چرخ نے بہ صورت ظاہر جدا رکھا
گڑوا دیا ہو مار کر اک دو کو تو کہوں
کب ان نے خون کر نہ کسو کا دبا رکھا
ٹک میں لگا تھا اس نمکی شوخ کے گلے
چھاتی کے میرے زخموں نے برسوں مزہ رکھا
کاہے کو آئے چوٹ کوئی دل پہ شیخ کے
اس بوالہوس نے اپنے تئیں تو بچا رکھا
ہم سر ہی جاتے عشق میں اکثر سنا کیے
اس راہ خوفناک میں کیوں تم نے پا رکھا
آزار دل نہیں ہے کسو دین میں درست
کیا جانوں ان بتوں نے ستم کیوں روا رکھا
کیا میں ہی محو چشمک انجم ہوں خلق کو
اس مہ نے ایک جھمکی دکھاکر لگا رکھا
کیا زہر چشم یار کو کوئی بیاں کرے
جس کی طرف نگاہ کی اس کو سلا رکھا
ہر چند شعر میر کا دل معتقد نہ تھا
پر اس غزل کو ہم نے بھی سن کر لکھا رکھا
میر تقی میر