ضبط گریہ سے پڑ گئے ناسور

دیوان اول غزل 218
دل جو اپنا ہوا تھا زخمی چور
ضبط گریہ سے پڑ گئے ناسور
صبح اس سرد مہر کے آگے
قرص خورشید ہو گیا کافور
ہم ضعیفوں کو پائمال نہ کر
دولت حسن پر نہ ہو مغرور
عرش پر بیٹھتا ہے کہتے ہیں
گر اٹھے ہے غبار خاطر مور
شکوئہ آبلہ ابھی سے میر
ہے پیارے ہنوز دلی دور
میر تقی میر