ضائع ہے جیب و دامن جوں جنس آب دیدہ

دیوان سوم غزل 1249
کب تک رہیں گے یارب ہر دم ہم آبدیدہ
ضائع ہے جیب و دامن جوں جنس آب دیدہ
اس حور سے شبوں کا ملنا گیا سو چپ ہوں
جاتا نہیں کہا کچھ جوں گنگ خواب دیدہ
راز محبت اپنا رسوا نہ اس قدر ہو
گر ہو نہ اشک افشاں خانہ خراب دیدہ
جب دیکھو لگ رہا ہے در کی طرف اسی کے
ہے جیسے کہیے ویسے ذلت کا باب دیدہ
دوزخ میں میر ہوں میں یار بہشت رو بن
جاں ہے ستم رسیدہ دل ہے عذاب دیدہ
میر تقی میر