صورت حال تجھے آپھی نظر آوے گی

دیوان اول غزل 459
میری پرسش پہ تری طبع اگر آوے گی
صورت حال تجھے آپھی نظر آوے گی
محو اس کا نہیں ایسا کہ جو چیتے گا شتاب
اس کے بے خود کی بہت دیر خبر آوے گی
کتنے پیغام چمن کو ہیں سو دل میں ہیں گرہ
کسو دن ہم تئیں بھی باد سحر آوے گی
ابر مت گور غریباں پہ برس غافل آہ
ان دل آزردوں کے جی میں بھی لہر آوے گی
میر میں جیتوں میں آئوں گا اسی دن جس دن
دل نہ تڑپے گا مرا چشم نہ بھر آوے گی
میر تقی میر