صحبت ہماری یار سے بے ڈھب بگڑ گئی

دیوان اول غزل 450
دو دن سے کچھ بنی تھی سو پھر شب بگڑ گئی
صحبت ہماری یار سے بے ڈھب بگڑ گئی
واشد کچھ آگے آہ سے ہوتی تھی دل کے تیں
اقلیم عاشقی کی ہوا اب بگڑ گئی
گرمی نے دل کی ہجر میں اس کے جلا دیا
شاید کہ احتیاط سے یہ تب بگڑ گئی
خط نے نکل کے نقش دلوں کے اٹھا دیے
صورت بتوں کی اچھی جو تھی سب بگڑ گئی
باہم سلوک تھا تو اٹھاتے تھے نرم گرم
کاہے کو میر کوئی دبے جب بگڑ گئی
میر تقی میر