صحبت رکھے گلوں سے اتنا دماغ کس کو

دیوان اول غزل 386
اچھی لگے ہے تجھ بن گل گشت باغ کس کو
صحبت رکھے گلوں سے اتنا دماغ کس کو
بے سوز داغ دل پر گر جی جلے بجا ہے
اچھا لگے ہے اپنا گھر بے چراغ کس کو
صد چشم داغ وا ہیں دل پر مرے میں وہ ہوں
دکھلا رہا ہے لالہ تو اپنا داغ کس کو
گل چین عیش ہوتے ہم بھی چمن میں جاکر
آہ و فغاں سے اپنی لیکن فراغ کس کو
کر شکر چشم پر خوں اے مست درد الفت
دیتے ہیں سرخ مے سے بھر کر ایاغ کس کو
اس کی بلا سے جو ہم اے میر گم بھی ہوویں
ہم سے غریب کا ہو فکر سراغ کس کو
میر تقی میر