صبح گہ اٹھتے ہی عالم کو ڈبوویں گے کل

دیوان اول غزل 269
شرط یہ ابر میں ہم میں ہے کہ روویں گے کل
صبح گہ اٹھتے ہی عالم کو ڈبوویں گے کل
آج آوارہ ہو اے بال اسیران قفس
یہ گل و باغ و خیابان نہ ہوویں گے کل
وعدئہ وصل رہا ہے شب آئندہ پہ میر
بخت خوابیدہ جو ٹک جاگتے سوویں گے کل
میر تقی میر