شیخ کیا جانے تو کہ کیا ہے عشق

دیوان اول غزل 252
درد ہی خود ہے خود دوا ہے عشق
شیخ کیا جانے تو کہ کیا ہے عشق
تو نہ ہووے تو نظم کل اٹھ جائے
سچے ہیں شاعراں خدا ہے عشق
میر تقی میر