شکر خدا کا کریے کہاں تک عہد فراق بسر آیا

دیوان پنجم غزل 1556
جاذبہ میرا تھا کامل سو بندے کے وہ گھر آیا
شکر خدا کا کریے کہاں تک عہد فراق بسر آیا
بجلی سا وہ چمک گیا آنکھوں سے پھوئیں پڑنے لگیں
ابر نمط خفگی سے اس بن جی بھی رندھا دل بھر آیا
گل تھے سو سو رنگ پر ایسا شورطیور بلند نہ تھا
اس کے رنگ چمن میں کوئی شاید پھول نظر آیا
سیل بلا جوشاں تھا لیکن پانی پانی شرم سے تھا
ساحل دریا خشک لبی دیکھے سے میری تر آیا
کیا ہی خوش پرکار ہے دلبر نوچہ کشتی گیر اپنا
کوئی زبردست اس سے لڑ کر عہدے سے کب بر آیا
صنعت گریاں بہتیری کیں لیک دریغ ہزار دریغ
جس سے یار بھی ملتا ہم سے ایسا وہ نہ ہنر آیا
میر پریشاں خاطر آکر رات رہا بت خانے میں
راہ رہی کعبے کی اودھر یہ سودائی کدھر آیا
میر تقی میر