شور سے جیسے بان جاتا ہے

دیوان اول غزل 535
نالہ تا آسمان جاتا ہے
شور سے جیسے بان جاتا ہے
دل عجب جاے ہے ولیکن مفت
ہاتھ سے یہ مکان جاتا ہے
گاہے آتا ہوں آپ میں سو بھی
جیسے کوئی میہمان جاتا ہے
کیا خرابی ہے میکدے کی سہل
محتسب اک جہان جاتا ہے
جب سرراہ آوے ہے وہ شوخ
ایک عالم کا جان جاتا ہے
اس سخن ناشنو سے کیا کہیے
غیر کی بات مان جاتا ہے
عشق کے داغ کا عبث ہے علاج
کوئی اب یہ نشان جاتا ہے
گو وہ ہرجائی آئے اپنی اور
سو طرف ہی گمان جاتا ہے
میر تو عمر طبعی کو پہنچا
عشق میں جوں جوان جاتا ہے
میر تقی میر