شور سا ہے تو ولیکن دور کا

دیوان دوم غزل 682
غم ابھی کیا محشر مشہور کا
شور سا ہے تو ولیکن دور کا
حق تو سب کچھ ہی ہے تو ناحق نہ بول
بات کہتے سر کٹا منصور کا
بیچ سے کب کا گیا اب ذکر کیا
اس دل مرحوم کا مغفور کا
طرفہ آتش خیز سنگستاں ہے دل
مقتبس یاں سے ہے شعلہ طور کا
مر گئے پر خاک ہے سب کبر و ناز
مت جھکو سر گو کسو مغرور کا
ٹھیکری کو قدر ہے اس کو نہیں
ٹوٹے جب کاسہ سر فغفور کا
ہو کھڑا وہ تو پری سی ہے کھڑی
منھ کھلے تو جیسے چہرہ حور کا
دیکھ اسے کیونکر ملک بھیچک نہ ہوں
آنکھ کے آگے یہ بکّا نور کا
چشم بہنے سے کبھو رہتی نہیں
کچھ علاج اے میر اس ناسور کا
میر تقی میر