شاید آوے گا خون ناب بہت

دیوان چہارم غزل 1363
چشم رہنے لگی پرآب بہت
شاید آوے گا خون ناب بہت
دیر و کعبے میں اس کے خواہش مند
ہوتے پھرتے ہیں ہم خراب بہت
دل کے دل ہی میں رہ گئے ارمان
کم رہا موسم شباب بہت
مارنا عاشقوں کا گر ہے ثواب
تو ہوا ہے تمھیں ثواب بہت
کہیے بے پردہ کیونکے عاشق ہیں
ہم کو لوگوں سے ہے حجاب بہت
میر بے خود ہیں اس جناب سے اب
چاہیے سب کو اجتناب بہت
میر تقی میر