سیدھی نظر جو اس کی نہیں ہے یاس ہے اپنی نظر میں اب

دیوان پنجم غزل 1579
کاوش سے ان پلکوں کی رہتی ہے خلش سی جگر میں اب
سیدھی نظر جو اس کی نہیں ہے یاس ہے اپنی نظر میں اب
موسم گل کا شاید آیا داغ جنوں کے سیاہ ہوئے
دل کھنچتا ہے جانب صحرا جی نہیں لگتا گھر میں اب
نقش نہیں پانی میں ابھرتا یہ تو کوئی اچنبھا ہے
صورت خوب اس کی ہے پھرتی اکثر چشم تر میں اب
ایک جگہ پر جیسے بھنور ہیں لیکن چکر رہتا ہے
یعنی وطن دریا ہے اس میں چار طرف ہیں سفر میں اب
حسرت نے ملنے کی آیا میر تمھارا خون پیا
تیغ و تبر اس ترک بچے ظالم کی نہیں ہے کمر میں اب
میر تقی میر