سہل نہیں ہے جی کا ڈھہنا کیسی خانہ خرابی ہے

دیوان چہارم غزل 1522
صبر کیا جاتا نہیں ہم سے ضعف بھی ہے بیتابی ہے
سہل نہیں ہے جی کا ڈھہنا کیسی خانہ خرابی ہے
آگے ایسا نکھرا نکھرا کاہے کو میں پھرتا تھا
جب سے آنکھ لگی اس مہ سے رنگ مرا مہتابی ہے
کس سے سبب میں پوچھوں یارب اپنی سوزش سینے کا
چھاتی جو جلتی رہتی ہے ات گت آگ مگر یاں دابی ہے
رنج و محن نے عشق کے مجھ کو راحت سے مایوس کیا
دل کے تئیں بیتابی ہے میری آنکھوں کو بے خوابی ہے
ابر کوئی رویا ہے شاید برسوں وادی لیلیٰ میں
سیر کیا وہ قطعہ زمیں کا اب تک بھی سیرابی ہے
شہر حسن عجب بستی ہے ڈھونڈے پیدا مہر نہیں
ہے تو متاع گراں قیمت پھر اس کی بلا نایابی ہے
در بدر و رسوا و عاشق شاعر شاغل کامل میر
گہ کعبے میں دیر میں گاہے کیا کافر ہر بابی ہے
میر تقی میر