سگ یار آدم گری کر گیا

دیوان دوم غزل 750
شب رفتہ میں اس کے در پر گیا
سگ یار آدم گری کر گیا
شکستہ دل عشق کی جان کیا
نظر پھیری تونے تو وہ مر گیا
ہوئے یار کیا کیا خراب اس بغیر
وہ کس خانہ آباد کے گھر گیا
کشندہ تھا لڑکا ہی ناکردہ خوں
مجھے دیکھ کر محتضر ڈر گیا
بہت رفتہ رہتے ہو تم اس کے اب
مزاج آپ کا میر کیدھر گیا
میر تقی میر