سو جاتے ہیں ولیکن بخت کنار ہر شب

دیوان اول غزل 174
رکھتا ہے ہم سے وعدہ ملنے کا یار ہر شب
سو جاتے ہیں ولیکن بخت کنار ہر شب
مدت ہوئی کہ اب تو ہم سے جدا رکھے ہے
اس آفتاب رو کو یہ روزگار ہر شب
دیکھیں ہیں راہ کس کی یارب کہ اختروں کی
رہتی ہیں باز آنکھیں چندیں ہزار ہر شب
دھوکے ترے کسو دن میں جان دے رہوں گا
کرتا ہے ماہ میرے گھر سے گذار ہر شب
دل کی کدورت اپنی یک شب بیاں ہوئی تھی
رہتا ہے آسماں پر تب سے غبار ہر شب
کس کے لگا ہے تازہ تیر نگاہ اس کا
اک آہ میرے دل کے ہوتی ہے پار ہر شب
مجلس میں میں نے اپنا سوز جگر کہا تھا
روتی ہے شمع تب سے بے اختیار ہر شب
مایوس وصل اس کے کیا سادہ مردماں ہیں
گذرے ہے میر ان کو امیدوار ہر شب
میر تقی میر