سو تب تلک کہ مجھ کو ہجراں سے تیرے خو ہو

دیوان دوم غزل 920
ٹک لطف سے ملاکر گو پھر کبھو کبھو ہو
سو تب تلک کہ مجھ کو ہجراں سے تیرے خو ہو
کیا کیا جوان ہم نے دنیا سے جاتے دیکھے
اے عشق بے محابا دنیا ہو اور تو ہو
ایسے کہو گے کچھ تو ہم چپکے ہو رہیں گے
ہر بات پر کہاں تک آپس میں گفتگو ہو
کیا ہے جواب ظالم پرسش کے روز کہیو
جو روسیاہ یہ بھی واں آ کے روبرو ہو
پرخوں ہمارے دل سے کتنی ہے تو مشابہ
شاید کلی تجھے بھی اس گل کی آرزو ہو
خط اس کے پشت لب کا ساکت کرے گا تجھ کو
کہیو اگر تفاوت اس میں بقدرمو ہو
کھولے تھے بال کن نے ہنگام صبح اپنے
آئی ہے اے صبا تو ایسی جو مشک بو ہو
درویشی سے بھی اپنی نکلے ہے میرزائی
نقش حصیر تن پر ایسے ہیں جوں اتو ہو
مت التیام چاہے پھر دل شکستگاں سے
ممکن نہیں کہ شیشہ ٹوٹا ہوا رفو ہو
کہتے ہو کانپتا ہوں جوں بید عاشقی سے
تم بھی تو میر صاحب کتنے خلاف گو ہو
میر تقی میر