سو التفات کم ہے دل آزاریاں بہت

دیوان دوم غزل 779
ہم تم سے چشم رکھتے تھے دلداریاں بہت
سو التفات کم ہے دل آزاریاں بہت
دیکھیں تو کیا دکھائے یہ افراط اشتیاق
لگتی ہیں تیری آنکھیں ہمیں پیاریاں بہت
جب تک ملی جلی سی جفائیں تھیں اٹھ سکیں
کرنے لگے ہو اب تو ستمگاریاں بہت
آزار میں تو عشق کے جاتا ہے بھول جی
یوں تو ہوئیں تھیں یاد میں بیماریاں بہت
شکوہ خراب ہونے کا کیا چاہنے میں میر
ایسی تو اے عزیز ہیں یاں خواریاں بہت
میر تقی میر