سنتا نہیں اس قافلے میں کوئی جرس بس

دیوان پنجم غزل 1631
صد پارہ گلا تیرا ہے کر ضبط نفس بس
سنتا نہیں اس قافلے میں کوئی جرس بس
دنیا طلبی نفس نہ کر شومی سے جوں سنگ
تھک کر کہیں ٹک بیٹھ رہ اے ہرزہ مرس بس
خنداں نہ مرے قتل میں رکھ تیغ کو پھر سان
جوں گل یہ ہنسی کیا ہے اسیروں پہ نہ ہنس بس
اس زار نے ہاتھ ان کا جو کھینچا لگے کہنے
غش کرنے نہ لگ جاؤں کہیں چھوڑیے بس بس
کیا میر اسیروں کو در باغ جو وا ہو
ہے رنگ ہوا دیکھنے کو چاک قفس بس
میر تقی میر