سماجت اتنی بھی سب سے کوئی خدا بھی ہے

دیوان اول غزل 566
حصول کام کا دلخواہ یاں ہوا بھی ہے
سماجت اتنی بھی سب سے کوئی خدا بھی ہے
موئے ہی جاتے ہیں ہم درد عشق سے یارو
کسو کے پاس اس آزار کی دوا بھی ہے
اداسیاں تھیں مری خانقہ میں قابل سیر
صنم کدے میں تو ٹک آ کے دل لگا بھی ہے
یہ کہیے کیونکے کہ خوباں سے کچھ نہیں مطلب
لگے جو پھرتے ہیں ہم کچھ تو مدعا بھی ہے
ترا ہے وہم کہ میں اپنے پیرہن میں ہوں
نگاہ غور سے کر مجھ میں کچھ رہا بھی ہے
جو کھولوں سینۂ مجروح تو نمک چھڑکے
جراحت اس کو دکھانے کا کچھ مزہ بھی ہے
کہاں تلک شب و روز آہ درد دل کہیے
ہر ایک بات کو آخر کچھ انتہا بھی ہے
ہوس تو دل میں ہمارے جگہ کرے لیکن
کہیں ہجوم سے اندوہ غم کے جا بھی ہے
غم فراق ہے دنبالہ گرد عیش وصال
فقط مزہ ہی نہیں عشق میں بلا بھی ہے
قبول کریے تری رہ میں جی کو کھو دینا
جو کچھ بھی پایئے تجھ کو تو آشنا بھی ہے
جگر میں سوزن مژگاں کے تیں کڈھب نہ گڑو
کسو کے زخم کو تونے کبھو سیا بھی ہے
گذار شہر وفا میں سمجھ کے کر مجنوں
کہ اس دیار میں میر شکستہ پا بھی ہے
میر تقی میر