سفر کا بھی رہے خطرہ کہ اس منزل سے جانا ہے

دیوان اول غزل 620
نہ رہ دنیا میں دلجمعی سے اے انساں جو دانا ہے
سفر کا بھی رہے خطرہ کہ اس منزل سے جانا ہے
چلے آتے تھے جو آناً فآناً دیکھ حسرت کو
وے آنسو بھی لگے آنکھیں چرانے کیا زمانہ ہے
میر تقی میر